حسی توسیع اور VR/AR: ٹیکنالوجی کے وہ راز جو آپ نہیں جانتے تھے

webmaster

감각 확장 인터페이스와 VR AR 기술의 차별점 - **Prompt for Sensory Extension Interface (SEI):**
    "A young, diverse scientist, wearing stylish y...

آج کل چاروں طرف ٹیکنالوجی کا چرچا ہے، اور یہ ہمارے ارد گرد کی دنیا کو تیزی سے ایک نئے انداز میں ڈھال رہی ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم کسی سائنس فکشن فلم کے حقیقی دور میں قدم رکھ چکے ہیں۔ آپ سب نے ورچوئل رئیلٹی (VR) اور آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا، جو یا تو ہمیں ایک بالکل نئی، خیالی دنیا میں لے جاتے ہیں یا پھر ہماری موجودہ دنیا میں ہی ڈیجیٹل معلومات کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اب اس سے بھی کہیں زیادہ دلچسپ اور حیرت انگیز ٹیکنالوجی، یعنی حسی توسیع انٹرفیس (Sensory Extension Interfaces)، ہمارے سامنے آ رہی ہے؟میں نے جب خود ان نئی ٹیکنالوجیز کو قریب سے محسوس کیا، تو یوں لگا جیسے ہمارے حسی تجربات کی تمام حدیں ٹوٹنے والی ہیں۔ یہ صرف ایک ہیڈسیٹ پہن کر کسی گیم کی دنیا میں غوطہ لگانا یا اپنے فون کی سکرین پر تھری ڈی ماڈل دیکھنا نہیں ہے، بلکہ یہ تو ہمارے اپنے حواس کو ہی ایک بالکل نئی سطح پر لے جانے کا کمال ہے۔ اکثر لوگ VR اور AR کے درمیان فرق کو لے کر الجھن کا شکار رہتے ہیں، لیکن حسی توسیع کا تصور تو اس سے بھی کئی گنا زیادہ گہرا اور دور رس ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ہماری زندگی کے ہر پہلو کو کیسے متاثر کرے گی، اور ہمارے روزمرہ کے تجربات کو کس طرح بدل کر رکھ دے گی، یہ جاننا ہر کسی کے لیے بہت ضروری ہے۔ تو آئیے، آج ہم ان تینوں جدید ترین ٹیکنالوجیز کے درمیان بنیادی فرق کو بہت ہی آسان اور عام فہم الفاظ میں سمجھتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہمارے حواس کو نئی جہتیں دے سکتی ہیں اور ہمارے معمولات کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ آج کی اس خاص پوسٹ میں ہم انہی تمام اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔آئیے، ان دلچسپ ٹیکنالوجیز کے بارے میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں!

감각 확장 인터페이스와 VR AR 기술의 차별점 관련 이미지 1

ٹیکنالوجی کی یہ حیرت انگیز دنیا جہاں ہر روز ایک نئی ایجاد ہمیں چونکا دیتی ہے، وہیں حسی توسیع انٹرفیس (Sensory Extension Interfaces) کا تصور سن کر تو مجھے یوں لگا جیسے کسی سائنس فکشن ناول کا باب حقیقت بن گیا ہو۔ جب میں نے پہلی بار اس کے بارے میں پڑھا اور اس کے ممکنہ اثرات پر غور کیا تو دل میں ایک عجیب سی لہر دوڑ گئی، یہ محض VR یا AR کا کوئی جدید ورژن نہیں، بلکہ یہ تو ہمارے حواس کو ہی ایک نئی سمت دینے کی بات ہے۔ تصور کریں کہ آپ دنیا کو صرف اپنی پانچ حواس سے نہیں بلکہ بالکل نئے طریقوں سے محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہمارے ارد گرد کی حقیقت کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

حواس کی نئی دنیا: حسی توسیع انٹرفیس کیسے کام کرتے ہیں؟

ہم سب نے VR اور AR کے بارے میں سنا ہے، ان کا تجربہ بھی کیا ہوگا، لیکن حسی توسیع انٹرفیس ان سے کہیں زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہیں۔ میں نے جب اس ٹیکنالوجی کی گہرائی میں جانے کی کوشش کی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک ڈیجیٹل دنیا میں گم ہو جانا یا حقیقی دنیا پر ڈیجیٹل معلومات کا اضافہ کرنا نہیں، بلکہ یہ تو ہمارے اپنے حواس کی حدود کو توڑنے کے مترادف ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیں نئے حسی تجربات سے آشنا کراتی ہے، ایسے تجربات جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مثلاً، کچھ سسٹمز ہمیں مقناطیسی فیلڈز کو محسوس کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں یا الٹرا وائلٹ روشنی کو ایک خاص قسم کی تھرتھراہٹ کے طور پر محسوس کرواتے ہیں۔ یہ انسان کو اپنی جسمانی حدود سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر دنیا کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایک بار ایک ایسے تجربے کے بارے میں پڑھا جہاں ایک شخص کو مصنوعی طور پر کسی اور سمت سے آنے والی آواز کو محسوس کروایا گیا، جیسے اس کے سر میں ایک نیا کان اگ آیا ہو۔ یہ کمال ہے اس ٹیکنالوجی کا جو ہمارے حواس کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔ یہ سب کچھ صرف ہماری آنکھوں یا کانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہمارے لمس، ذائقے اور سونگھنے کی حس کو بھی نئی معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی تحقیق کے نئے دروازے کھولتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی کے ان گنت شعبوں میں بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہ میرا اپنا تجزیہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی فطری صلاحیتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔

صرف دیکھنا یا سننا نہیں، محسوس کرنا

عام طور پر VR اور AR کا زیادہ تر انحصار بصری اور سمعی تجربات پر ہوتا ہے۔ لیکن حسی توسیع انٹرفیس (SEI) اس سے کہیں آگے بڑھ کر ہمیں نئے قسم کے احساسات سے روشناس کراتا ہے۔ یہ ہمیں ایسے ڈیٹا کو محسوس کرنے کی اجازت دیتا ہے جو ہماری قدرتی حواس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ مثال کے طور پر، وہ ٹیکنالوجیز جو آپ کو کمپن یا دباؤ کے ذریعے درجہ حرارت میں تبدیلیوں کو “دیکھنے” میں مدد دیتی ہیں، یا وہ جو آپ کو خاص آلات کے ذریعے کسی دور دراز جگہ پر موجود اشیاء کی ساخت کو “چھونے” کا احساس دیتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیں نہ صرف موجودہ معلومات کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ایسی معلومات تک رسائی بھی فراہم کرتی ہے جو پہلے ہمارے لیے ناممکن تھی۔ مجھے ذاتی طور پر یہ تصور سب سے زیادہ دلچسپ لگتا ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کو محسوس کر سکیں جسے ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں یا ہمارے کان سن نہیں سکتے۔ یہ حقیقی معنوں میں ہمارے شعور کو وسعت دینے کے مترادف ہے۔

حقیقت سے پرے نئے حسی پیغامات

AR ہماری حقیقی دنیا پر ڈیجیٹل معلومات کی ایک پرت بچھا دیتا ہے، جبکہ VR ہمیں ایک مکمل طور پر خیالی دنیا میں لے جاتا ہے۔ لیکن SEI اس سے مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ ہماری حقیقی دنیا کو نئے حسی پیغامات کے ذریعے تبدیل کرتا ہے۔ یہ صرف معلومات کی نمائش نہیں کرتا بلکہ ہمارے جسم کو براہ راست نئی حسی صلاحیتوں سے آراستہ کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھ سکتے ہیں، جیسے اگر کوئی ڈاکٹر کسی آپریشن کے دوران جسم کے اندر کی حالت کو چھو کر محسوس کر سکے۔ یہ حیرت انگیز ہے کہ کس طرح یہ ہمارے روزمرہ کے کاموں کو آسان بنا سکتا ہے اور ہمیں ایسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے جن کے لیے ہمیں پہلے جدید مشینوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ میں خود دیکھ رہا ہوں کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کس طرح ہمارے تمام روایتی تصورات کو بدل کر رکھ دے گی۔

ورچوئل رئیلٹی (VR) کی گہری دنیا: خود کو کہیں اور محسوس کرنا

VR کا تجربہ کرنا ہمیشہ سے ہی میرے لیے ایک دلچسپ سفر رہا ہے۔ جب میں نے پہلی بار ایک VR ہیڈسیٹ لگایا، تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیں ایک مکمل طور پر بناوٹی اور ڈیجیٹل دنیا میں لے جاتی ہے، جہاں ہماری حقیقی دنیا کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ اس میں، ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ایک بالکل نئی حقیقت دیکھتے ہیں، اپنے کانوں میں اسی دنیا کی آوازیں سنتے ہیں، اور بعض اوقات تو ہاتھ میں کنٹرولرز کے ذریعے اس دنیا کی چیزوں کو چھونے کا بھی احساس ملتا ہے۔ اس کا مقصد ہمیں حقیقی دنیا سے مکمل طور پر منقطع کرکے ایک متبادل حقیقت میں غرق کرنا ہے، تاکہ ہم وہاں کے ماحول کا حصہ بن جائیں۔ VR نے گیمنگ اور تفریح کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے، جہاں ہم تصوراتی کرداروں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں، خطرناک مہمات پر جا سکتے ہیں، یا پھر آرام دہ ماحول میں اپنے فارغ وقت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف گیمنگ تک ہی محدود نہیں، بلکہ تعلیم، طب اور فوجی تربیت جیسے شعبوں میں بھی اس کے وسیع استعمال ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میرے ایک دوست نے VR کے ذریعے سرجری کی تربیت حاصل کی، تو وہ اس تجربے سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے کہا یہ حقیقی آپریشن کے قریب ترین محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں بالکل نئے تعلیمی اور تربیتی مواقع فراہم کرتا ہے، جہاں غلطیوں کے نتائج حقیقی نہیں ہوتے، اور ہم محفوظ طریقے سے سیکھ سکتے ہیں۔ VR کی مدد سے لوگ دور دراز مقامات کی ورچوئل ٹور کر سکتے ہیں، عجائب گھروں کو دیکھ سکتے ہیں، یا پھر کسی نئے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کا ورچوئل معائنہ کر سکتے ہیں۔

مکمل طور پر ایک نئی کائنات میں ڈوب جانا

VR کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ صارف کو حقیقی دنیا سے مکمل طور پر الگ کر کے ایک مصنوعی ماحول میں ڈبو دیتا ہے۔ جب آپ VR ہیڈسیٹ پہنتے ہیں، تو آپ کے تمام حواس، خاص طور پر بصارت اور سماعت، ایک ڈیجیٹل دنیا کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یہ آپ کو یہ محسوس کراتا ہے کہ آپ واقعی اس ورچوئل کائنات کا حصہ ہیں۔ میں نے خود جب ایک VR گیم کھیلا تو مجھے اتنا حقیقت پسندانہ تجربہ ہوا کہ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ میں اپنے کمرے میں محفوظ بیٹھا ہوں۔ یہ احساسِ موجودگی، یعنی “پریزننس” ہی VR کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ VR کے ذریعے ہم صرف کسی منظر کو دیکھتے نہیں بلکہ اس میں سانس لیتے ہیں، اسے چھوتے ہیں، اور اس کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔

گیمنگ سے تعلیم تک VR کا سفر

شروع میں VR کو زیادہ تر گیمنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اور آج بھی یہ اس شعبے میں بہت مقبول ہے۔ لیکن اب اس کا استعمال گیمنگ سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ طبی شعبے میں سرجنز کو پیچیدہ آپریشنز کی تربیت دینے کے لیے، مریضوں کی تکلیف کم کرنے کے لیے، اور فزیکل ری ہیبیلیٹیشن میں اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تعمیرات اور ڈیزائننگ میں انجینئرز اور آرکیٹیکٹس ورچوئل ماحول میں اپنے ڈیزائنز کا جائزہ لیتے ہیں، اسکولوں میں بچے تاریخ اور سائنس کے مضامین کو زیادہ دلچسپ طریقے سے سیکھتے ہیں۔ فوجی تربیت میں بھی VR کا استعمال میدان جنگ کی نقالی کرنے اور پائلٹوں کو فلائٹ سمیلیشنز کے ذریعے تربیت دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ میں نے خود ایک تعلیمی VR ایپلی کیشن دیکھی جہاں بچے مصر کے اہراموں کے اندر ورچوئل ٹور کر رہے تھے، جو انہیں کتابوں سے پڑھنے سے کہیں زیادہ بہتر اور یادگار تجربہ دے رہا تھا۔

Advertisement

آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) کی حقیقت سے ملاقات: ڈیجیٹل اضافہ

AR نے ہمارے حقیقی دنیا کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ یہ تصور مجھے ہمیشہ سے بہت دلچسپ لگا ہے کہ کیسے ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں ڈیجیٹل عناصر کو شامل کر سکتے ہیں اور اس سے ہمارا تجربہ کتنا بہتر ہو سکتا ہے۔ AR ورچوئل رئیلٹی کے برعکس ہمیں ایک نئی دنیا میں نہیں لے جاتا، بلکہ ہماری موجودہ دنیا کو ڈیجیٹل معلومات اور گرافکس کے ساتھ مزید بہتر بنا دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اب بھی اپنے ارد گرد کی حقیقی اشیاء کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن ان پر ڈیجیٹل مواد کی ایک پرت بھی نظر آتی ہے۔ میں نے خود کئی بار AR فلٹرز استعمال کیے ہیں، جیسے سنیپ چیٹ یا انسٹاگرام پر، جو میرے چہرے پر تفریحی ماسک یا میک اپ لگا دیتے ہیں۔ یہ محض ایک تفریح نہیں، بلکہ یہ ٹیکنالوجی کئی عملی شعبوں میں بھی انقلاب برپا کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، IKEA جیسے فرنیچر برانڈز نے AR ایپس تیار کی ہیں جو صارفین کو یہ دیکھنے میں مدد دیتی ہیں کہ کوئی فرنیچر کا ٹکڑا ان کے گھر میں کیسا لگے گا۔ ڈاکٹرز آپریشن کے دوران مریض کے جسم پر اسکینز کی ڈیجیٹل تصاویر اوورلے کر سکتے ہیں، جس سے انہیں زیادہ درستگی کے ساتھ کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مجھے یہ ٹیکنالوجی اس لیے بھی بہت پسند ہے کیونکہ یہ ہمیں حقیقی دنیا سے جوڑے رکھتی ہے جبکہ ساتھ ہی ساتھ ہمیں اضافی معلومات اور تجربات بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ ہمارے روزمرہ کے کاموں کو زیادہ آسان، معلوماتی اور دلچسپ بنا دیتی ہے۔

حقیقی دنیا میں ڈیجیٹل چمک

AR کا بنیادی کام ہماری حقیقی دنیا میں ڈیجیٹل معلومات شامل کرنا ہے۔ یہ آپ کے فون کی سکرین پر، یا خاص AR گلاسز کے ذریعے، حقیقی اشیاء پر ورچوئل تصاویر، ویڈیوز یا ڈیٹا دکھاتا ہے۔ یہ سب کچھ حقیقی وقت میں ہوتا ہے، یعنی جب آپ حرکت کرتے ہیں تو ڈیجیٹل عناصر بھی آپ کے ماحول کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایک AR ایپ کے ذریعے اپنے کمرے میں ایک ورچوئل ڈائنوسار دیکھا تھا، تو وہ اس قدر حقیقت پسندانہ لگ رہا تھا کہ مجھے ایک لمحے کے لیے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ اصلی نہیں ہے۔ یہ صلاحیت AR کو بہت طاقتور بناتی ہے، کیونکہ یہ ہمیں دنیا کو ایک نئے انداز سے دیکھنے اور اس کے ساتھ تعامل کرنے کا موقع دیتی ہے، بغیر اس کے کہ ہم حقیقی دنیا سے مکمل طور پر کٹ جائیں۔

روزمرہ کی زندگی میں AR کے عملی استعمال

AR کا استعمال آج کل ہماری زندگی کے کئی شعبوں میں پھیل چکا ہے۔ خوردہ فروشی میں AR ایپس آپ کو کپڑوں یا جوتوں کو ورچوئلی آزمانے کی سہولت دیتی ہیں۔ تعلیم میں، بچے اپنی کتابوں کے صفحات پر ورچوئل 3D ماڈلز دیکھ سکتے ہیں جو ان کے سیکھنے کے عمل کو مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ سیاحت میں، AR ایپس تاریخی مقامات پر معلومات یا ماضی کے مناظر کی نقالی دکھاتی ہیں۔ مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں میں، ٹیکنیشنز AR گلاسز کے ذریعے پیچیدہ مشینوں کی مرمت کے لیے قدم بہ قدم ہدایات دیکھ سکتے ہیں۔ میں خود سوچتا ہوں کہ اگر یہ ٹیکنالوجی ہمارے ڈرائیونگ کے تجربے میں شامل ہو جائے، تو ہم سڑک پر حقیقی وقت میں نیویگیشن کے اشارے اور ٹریفک کی معلومات دیکھ سکیں گے، جس سے ڈرائیونگ مزید محفوظ ہو جائے گی۔

تینوں ٹیکنالوجیز کا تقابلی جائزہ: کون کس سے کتنا مختلف؟

جب میں نے ان تینوں ٹیکنالوجیز کو قریب سے دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ اگرچہ یہ سب “حقیقت” کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن ان کے کام کرنے کا طریقہ اور ان کے مقاصد میں واضح فرق ہے۔ VR ہمیں مکمل طور پر ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے، AR ہماری موجودہ دنیا میں ڈیجیٹل چیزوں کا اضافہ کرتا ہے، اور SEI ہمارے حواس کو ہی ایک نئی سمت دیتا ہے، ہمیں نئے حسی تجربات سے روشناس کراتا ہے۔ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ یہ ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ کس مقصد کے لیے کون سی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ میں نے سوچا کہ ایک چھوٹی سی جدول بنا کر اس فرق کو مزید واضح کیا جائے تاکہ آپ کو آسانی سے سمجھ آ سکے۔ یہ ایک ایسی وضاحت ہے جو آپ کو ان ٹیکنالوجیز کے انتخاب میں رہنمائی دے گی۔

ٹیکنالوجی تعریف حقیقی دنیا سے تعلق مقصد
ورچوئل رئیلٹی (VR) ایک مکمل طور پر مصنوعی، ڈیجیٹل ماحول میں صارف کو غرق کر دینا حقیقی دنیا سے مکمل انقطاع مکمل عمیق تجربہ فراہم کرنا (کھیل، تربیت، سمیلیشن)
آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) حقیقی دنیا کے ماحول پر ڈیجیٹل معلومات کی پرت چڑھانا حقیقی دنیا کے ساتھ تعامل برقرار رہتا ہے حقیقی دنیا کو ڈیجیٹل معلومات سے بہتر بنانا
حسی توسیع انٹرفیس (SEI) صارف کے قدرتی حواس کو نئی معلومات سے توسیع دینا یا نئے حواس شامل کرنا حقیقی دنیا میں نئے حسی پیغامات شامل کرنا انسانی حسی حدود کو وسعت دینا، نئی معلومات کا ادراک

اس جدول سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر ٹیکنالوجی کا اپنا ایک منفرد دائرہ کار اور مقصد ہے۔ VR آپ کو ایک نیا منظر دکھاتا ہے، AR آپ کے موجودہ منظر کو بہتر بناتا ہے، اور SEI آپ کو ایک نیا احساس دیتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ یہ تینوں ٹیکنالوجیز مل کر مستقبل میں ہمارے تجربات کو اتنا بدل دیں گی کہ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔

Advertisement

مستقبل کی جھلک: یہ ٹیکنالوجیز ہماری زندگی کیسے بدلیں گی؟

جب میں ان تینوں ٹیکنالوجیز کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا ذہن امکانات کے ایک وسیع سمندر میں کھو جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ صرف تفریح یا گیمنگ تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کریں گی۔ مستقبل میں ہم اپنے ڈاکٹر سے ورچوئل ملاقاتیں کر سکیں گے، جہاں VR کی مدد سے ڈاکٹر آپ کے جسم کا ورچوئل معائنہ کر سکے گا اور AR کے ذریعے آپ کی صحت سے متعلق تمام معلومات حقیقی وقت میں اس کی آنکھوں کے سامنے ہوں گی۔ تعلیم کا نظام مکمل طور پر بدل جائے گا، بچے اور طالب علم کتابوں سے پڑھنے کے بجائے، ورچوئل اور آگمینٹڈ ماحول میں عملی تجربات کے ذریعے سیکھیں گے۔ Imagine کریں کہ آپ کسی تاریخی جنگ کا حصہ بن کر اسے براہ راست محسوس کر رہے ہیں یا کسی سائنس لیب میں پیچیدہ تجربات خود کر رہے ہیں۔ حسی توسیع انٹرفیس تو اس سے بھی آگے کی بات ہے، یہ ہمیں نہ صرف سائنسی تحقیق میں نئی پیش رفت کرنے میں مدد دے گا بلکہ روزمرہ زندگی کے عام کاموں میں بھی سہولت پیدا کرے گا۔ جیسے نابینا افراد کو آس پاس کے ماحول کو نئے حسی اشاروں کے ذریعے محسوس کرنے میں مدد مل سکتی ہے، یا ہم کسی ایسی مشینوں کو کنٹرول کر سکیں گے جو ہماری سوچ سے چلتی ہوں۔ یہ ایک ایسا مستقبل ہے جہاں ہماری جسمانی حدود کم ہو جائیں گی اور ہم دنیا کے ساتھ بالکل نئے انداز میں جڑیں گے۔ میں تو اس دن کا بے تابی سے انتظار کر رہا ہوں جب یہ ٹیکنالوجیز اتنی عام ہو جائیں گی کہ ہر کوئی ان کا تجربہ کر سکے گا۔ یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، یہ تو انسانیت کا نیا ارتقا ہے۔

تعلیم اور تربیت کے نئے افق

تعلیم کے میدان میں VR اور AR نے پہلے ہی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا شروع کر دی ہیں۔ طلباء کو اب صرف کتابوں سے معلومات حاصل نہیں کرنا پڑیں گی، بلکہ وہ ورچوئل دنیا میں جا کر تاریخی واقعات کا حصہ بن سکیں گے، سائنس کے تجربات کو عملی طور پر دیکھ سکیں گے، اور پیچیدہ تصورات کو 3D ماڈلز کے ذریعے سمجھ سکیں گے۔ AR کی مدد سے وہ اپنے حقیقی ماحول میں ہی ڈیجیٹل مواد کے ساتھ تعامل کر سکیں گے، جیسے کہ کتاب کے صفحات پر متحرک تصاویر دیکھنا۔ SEI ان تجربات کو مزید گہرا بنا سکتا ہے، جہاں طلباء کسی کیمیائی رد عمل کی “بو” کو محسوس کر سکیں، یا کسی تاریخی عمارت کی ساخت کو “چھو” کر جانچ سکیں۔ یہ سب کچھ طالب علموں کے لیے سیکھنے کے عمل کو نہ صرف زیادہ دلچسپ بلکہ زیادہ مؤثر بھی بنا دے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے تعلیم کا معیار بہت بلند ہو جائے گا۔

صحت اور طب میں انقلابی تبدیلی

صحت کے شعبے میں ان ٹیکنالوجیز کے امکانات بے پناہ ہیں۔ VR کے ذریعے ڈاکٹرز پیچیدہ سرجریوں کی تربیت حاصل کر سکیں گے، مریضوں کو درد کم کرنے کے لیے ورچوئل تھراپی دی جا سکے گی، اور نفسیاتی بیماریوں کے علاج میں بھی اس کا استعمال ہو سکے گا۔ AR کی مدد سے سرجنز آپریشن کے دوران مریض کے جسم پر براہ راست اہم معلومات (جیسے خون کی رگوں کا نقشہ) دیکھ سکیں گے، جس سے آپریشن میں زیادہ درستگی آئے گی۔ SEI تو یہاں بھی ایک نیا باب کھول سکتا ہے، جہاں ڈاکٹر مریض کے اندرونی اعضاء کی حالت کو براہ راست محسوس کر سکیں، یا دور سے ہی کسی آلے کے ذریعے مریض کے جسم میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کا ادراک کر سکیں۔ یہ نہ صرف تشخیص اور علاج کے طریقوں کو بہتر بنائے گا بلکہ صحت کی دیکھ بھال کو زیادہ مؤثر اور ذاتی نوعیت کا بھی بنائے گا۔

روایتی حدود سے آزادی: ہماری حسی دنیا کو وسعت دینا

میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ اگر ہماری حسی صلاحیتیں صرف پانچ تک محدود نہ ہوتیں تو کیا ہوتا؟ اب یہ خواب سچ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حسی توسیع انٹرفیس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہمیں ہماری روایتی حسی حدود سے آزاد کرتا ہے۔ یہ صرف حقیقی دنیا کی نقل نہیں بناتا، نہ ہی اس میں کچھ اضافہ کرتا ہے، بلکہ یہ تو ہمیں نئی معلومات کو محسوس کرنے کی طاقت دیتا ہے جس کے لیے ہماری فطری حواس ناکافی ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں انسان کو قدرت کی طرف سے ملنے والی حدود سے آگے بڑھ کر کائنات کو مزید گہرائی سے سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔ مجھے ایک بار کسی نے بتایا تھا کہ اگر انسان کے پاس مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی تو وہ دنیا کو بالکل مختلف انداز میں دیکھتا۔ SEI بالکل اسی طرح کے تجربات کو حقیقت بنا سکتا ہے۔ یہ ہمیں زیادہ مکمل، زیادہ باخبر اور زیادہ حساس مخلوق بنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو انسان کو خود کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد دے گا۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں، یہ تو انسانی ارتقا کا اگلا قدم ہے۔

نئے حواس کی دریافت: وہ جو ہم نے کبھی محسوس نہیں کیا

SEI کے ذریعے ہم ایسے حواس کو دریافت کر سکتے ہیں جو قدرتی طور پر ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ تجربات میں لوگوں کو ایسے آلات پہنائے گئے ہیں جو انہیں زلزلے کی لہروں کو کمپن کے ذریعے محسوس کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ ہمیں ماحول کے ساتھ ایک نیا تعلق قائم کرنے کا موقع دیتا ہے، جہاں ہم ان چیزوں کو محسوس کر سکتے ہیں جو پہلے ہمارے لیے پوشیدہ تھیں۔ میں تصور کرتا ہوں کہ ہم ہوا میں موجود آلودگی کو ایک خاص قسم کی بو یا ذائقے کے ذریعے محسوس کر سکیں گے، یا پھر کسی بیماری کے ابتدائی اشاروں کو اپنے جسم میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کے ذریعے جانچ سکیں گے۔ یہ سچ میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

감각 확장 인터페이스와 VR AR 기술의 차별점 관련 이미지 2

فطری صلاحیتوں میں اضافہ: خود کو زیادہ طاقتور محسوس کرنا

یہ ٹیکنالوجی ہماری موجودہ حسی صلاحیتوں کو بھی کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ جیسے، سماعت سے محروم افراد نئے حسی انٹرفیس کے ذریعے آواز کو کمپن یا روشنی کے اشاروں کے ذریعے محسوس کر سکیں گے۔ بینائی سے محروم افراد کو نئے حسی طریقوں سے ماحول کو “دیکھنے” میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ صرف معذور افراد کے لیے ہی نہیں، بلکہ عام افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد کی دنیا کو زیادہ تفصیلی اور گہرائی سے سمجھ سکیں گے۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ سب صرف فلموں میں ہوتا ہے، لیکن اب یہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ یہ ہمیں خود کو زیادہ طاقتور اور دنیا کے ساتھ زیادہ جڑا ہوا محسوس کرنے کا موقع دے گا۔

Advertisement

ذاتی تجربات اور جذبات: ٹیکنالوجی کا انسانی پہلو

مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار VR ہیڈسیٹ پہن کر ایک ورچوئل roller coaster کا تجربہ کیا تھا، میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی اور میں واقعی میں ہوا میں اڑنے کا احساس کر رہا تھا۔ یہ صرف ایک گیم نہیں تھا، یہ ایک جذباتی تجربہ تھا۔ AR کے ذریعے جب میں نے اپنے گھر میں ورچوئل فرنیچر رکھ کر دیکھا تو مجھے ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوا کہ اب میں خریدنے سے پہلے ہی سب کچھ دیکھ سکتا ہوں۔ یہ ٹیکنالوجیز صرف آلات نہیں ہیں، یہ ہمارے احساسات اور جذبات سے جڑی ہوئی ہیں۔ حسی توسیع انٹرفیس تو اس سے بھی زیادہ گہرا تعلق قائم کرتا ہے، کیونکہ یہ براہ راست ہمارے حواس سے بات کرتا ہے۔ جب میں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں پڑھا جس نے ایک نیا حسی انٹرفیس استعمال کر کے اپنی بینائی کو ایک نئے انداز میں “دیکھنے” کی صلاحیت حاصل کی تو اس کی خوشی اور حیرت کا اندازہ لگانا میرے لیے مشکل نہیں تھا۔ یہ ٹیکنالوجیز ہمیں نہ صرف معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ہمیں نئے جذباتی تجربات سے بھی روشناس کراتی ہیں۔ میں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے ایک نیا جذباتی سفر شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ہمیں خود کو، دنیا کو، اور ایک دوسرے کو نئے طریقوں سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

حیرت اور خوف کا حسین امتزاج

ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک عجیب سا احساس وابستہ ہوتا ہے، حیرت کا، تجسس کا اور کہیں نہ کہیں تھوڑا سا خوف کا بھی۔ VR کے ابتدائی دنوں میں مجھے لگا تھا کہ لوگ حقیقی دنیا سے مکمل طور پر کٹ جائیں گے، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ یہ کس طرح لوگوں کو دور دراز علاقوں کے ساتھ جوڑ رہا ہے، انہیں نئے تجربات دے رہا ہے۔ AR کے بارے میں بھی شروع میں تحفظات تھے، لیکن اس نے ہماری روزمرہ کی زندگی کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔ SEI کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ یہ ہمیں ایسے احساسات دے گا جو پہلے ناممکن تھے، اور یہ حیرت انگیز ہو گا، لیکن شاید شروع میں تھوڑا خوفناک بھی۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ انسانیت ہمیشہ ترقی کی طرف گامزن رہتی ہے اور نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جہاں ہم اپنی حدود کو پہچانیں گے اور انہیں پار کریں گے۔

ٹیکنالوجی سے جڑے انسانی رشتے

یہ ٹیکنالوجیز ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ VR کے ذریعے ہم دور دراز کے رشتہ داروں سے مل کر ورچوئل ماحول میں بات چیت کر سکیں گے، جیسے وہ ہمارے سامنے موجود ہوں۔ AR کے ذریعے ہم ایک ساتھ بیٹھ کر حقیقی دنیا میں ڈیجیٹل گیمز کھیل سکیں گے یا منصوبوں پر کام کر سکیں گے۔ SEI تو ہمیں ایک دوسرے کے احساسات کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت دے سکتا ہے، جیسے ہم کسی دوسرے شخص کی خوشی یا غم کو براہ راست محسوس کر سکیں۔ یہ نہ صرف ہماری آپسی سمجھ بوجھ کو بڑھائے گا بلکہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ گہرائی سے جڑنے کا موقع بھی دے گا۔ یہ ایک ایسا مستقبل ہے جہاں ٹیکنالوجی ہمیں مزید انسان بنائے گی۔

آخر میں

آج ہم نے حسی توسیع انٹرفیس، ورچوئل رئیلٹی اور آگمینٹڈ رئیلٹی جیسی حیرت انگیز ٹیکنالوجیز کو سمجھنے کی کوشش کی جو ہماری دنیا کو بدل رہی ہیں۔ یہ صرف سائنس فکشن نہیں، بلکہ ایسی حقیقتیں ہیں جو ہمارے احساسات اور تجربات کو نئی جہتیں دے رہی ہیں۔ میرا ذاتی ماننا ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ ٹیکنالوجیز ہماری زندگیوں میں اس قدر شامل ہو جائیں گی کہ ہم انہیں اپنی روزمرہ کی ضروریات کا حصہ سمجھیں گے۔ یہ ایک ایسا دلچسپ سفر ہے جس میں ہم اپنی فطری حدود کو توڑ کر ایک وسیع تر کائنات کے ساتھ جڑنے والے ہیں۔ تو تیار ہو جائیے اس نئی حسی دنیا کو دریافت کرنے کے لیے!

Advertisement

جاننے کے لیے مفید معلومات

1. اگر آپ VR کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو سستے ہیڈسیٹس سے آغاز کریں جیسے کہ Google Cardboard یا ہائی اینڈ VR سسٹمز جیسے Oculus Quest 2 یا Valve Index کو دیکھیں۔ یہ آپ کو ایک شاندار ابتدائی تجربہ فراہم کریں گے۔

2. AR ایپس اب آپ کے اسمارٹ فون پر آسانی سے دستیاب ہیں۔ اپنے فون کے ایپ اسٹور پر ‘AR’ تلاش کریں اور مختلف کیٹیگریز میں AR ایپس کو دریافت کریں جیسے گیمز، تعلیمی ایپس، یا فرنیچر سیٹ اپ ایپس۔

3. حسی توسیع انٹرفیس ابھی نسبتاً نئی فیلڈ ہے، لیکن اس پر تحقیق بہت تیزی سے ہو رہی ہے۔ تازہ ترین پیش رفتوں سے باخبر رہنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی بلاگز اور رسائل کو فالو کریں۔

4. ان ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے وقت سائبر سیکیورٹی اور پرائیویسی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ ہمیشہ محفوظ اور قابل اعتماد پلیٹ فارمز کا استعمال کریں اور اپنی ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بنائیں۔

5. تعلیم اور تربیت کے شعبے میں VR/AR کے استعمال کے نئے مواقع تلاش کریں۔ کئی یونیورسٹیاں اور ادارے اب ورچوئل لیبز اور سمیلیشنز پیش کر رہے ہیں جو آپ کی مہارتوں کو نکھار سکتے ہیں۔

اہم نکات کا خلاصہ

ہم نے دیکھا کہ حسی توسیع انٹرفیس (SEI) ہمیں نئے حواس بخشتا ہے یا موجودہ حواس کو وسعت دیتا ہے، جو ہمیں پہلے ناممکن معلومات کو محسوس کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ورچوئل رئیلٹی (VR) ہمیں ایک مکمل طور پر مصنوعی دنیا میں غرق کر دیتی ہے، جہاں ہم حقیقی دنیا سے مکمل طور پر منقطع ہو کر ایک نئے ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جبکہ آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) ہماری حقیقی دنیا پر ڈیجیٹل معلومات کی ایک تہہ بچھا دیتی ہے، جس سے ہمارا موجودہ ماحول مزید معلومات سے بھرپور ہو جاتا ہے۔ یہ تینوں ٹیکنالوجیز، اپنے مختلف طریقوں سے، ہمارے دنیا کو دیکھنے، محسوس کرنے اور اس کے ساتھ تعامل کرنے کے انداز کو انقلابی طور پر بدل رہی ہیں۔ یہ مستقبل میں تعلیم، صحت، تفریح اور روزمرہ کی زندگی کے ہر شعبے میں گہرے اثرات مرتب کریں گی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ورچوئل رئیلٹی (VR) اور آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) میں بنیادی فرق کیا ہے اور ہم انہیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں کیسے دیکھتے ہیں؟

ج: بہت سے لوگ VR اور AR کے بارے میں سن کر الجھ جاتے ہیں، لیکن میں نے جب خود ان کا تجربہ کیا تو مجھے لگا کہ انہیں سمجھنا دراصل بہت آسان ہے۔ دیکھیں، ورچوئل رئیلٹی (VR) ہمیں ہماری اصل دنیا سے کاٹ کر ایک بالکل نئی، ڈیجیٹل دنیا میں لے جاتی ہے۔ آپ ایک خاص ہیڈسیٹ پہنتے ہیں، اور بس، آپ کسی جنگل میں گھوم رہے ہوتے ہیں، یا کسی خلائی جہاز میں سفر کر رہے ہوتے ہیں، یا پھر کسی ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جو حقیقی طور پر موجود ہی نہیں ہے۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب میں نے پہلی بار VR ہیڈسیٹ لگایا، تو مجھے یوں لگا جیسے میں حقیقت میں کسی اور ہی سیارے پر آ گیا ہوں، اور میں بالکل بھول گیا تھا کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوں۔ یہ ایک مکمل غوطہ خوری کا تجربہ ہے، جہاں آپ کی آنکھوں اور کانوں کو ایک خیالی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔اس کے برعکس، آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) ہمیں ہماری حقیقی دنیا سے دور نہیں لے جاتی، بلکہ یہ اسی میں ڈیجیٹل عناصر کا اضافہ کر دیتی ہے۔ اس کے لیے اکثر ہم اپنا سمارٹ فون یا ٹیبلٹ استعمال کرتے ہیں، اور اب تو AR گلاسز بھی آ رہے ہیں۔ تصور کریں کہ آپ اپنے فون کا کیمرا آن کرتے ہیں اور اپنی میز پر ایک ورچوئل کھلونا یا جانور دیکھتے ہیں، یا پھر آپ اپنے کمرے میں ایک نئے صوفے کا تھری ڈی ماڈل رکھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیسا لگے گا۔ یہ حقیقی دنیا کے اوپر ایک ڈیجیٹل پرت چڑھانے جیسا ہے۔ میں نے ایک بار AR ایپ کے ذریعے اپنے بیٹے کے لیے ایک گیم کھیلی جس میں وہ ہمارے باغ میں ایک ورچوئل ڈریگن کا پیچھا کر رہا تھا، اور یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ وہ کتنا پرجوش تھا۔ تو بنیادی فرق یہ ہے کہ VR آپ کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے، جبکہ AR ڈیجیٹل چیزوں کو آپ کی موجودہ دنیا کا حصہ بنا دیتی ہے۔

س: حسی توسیع انٹرفیس (Sensory Extension Interfaces) VR اور AR دونوں سے کیسے مختلف ہے، اور یہ کس طرح ہمارے حواس کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

ج: اب بات کرتے ہیں حسی توسیع انٹرفیس کی، جو ان دونوں سے کہیں زیادہ دلچسپ اور گہرا تصور ہے۔ میں جب اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دماغ میں مستقبل کی سائنس فکشن فلمیں چلنے لگتی ہیں۔ VR اور AR بنیادی طور پر ہماری بصری اور بعض اوقات سمعی حواس پر کام کرتی ہیں – یعنی ہم دیکھتے اور سنتے ہیں۔ لیکن حسی توسیع انٹرفیس ان حواس کی حدود سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔ یہ ہمیں ایسے حواس کا تجربہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو ہمارے پاس قدرتی طور پر موجود ہی نہیں ہیں، یا پھر ہمارے موجودہ حواس کو اس طرح بڑھا دیتا ہے جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔مثال کے طور پر، میں نے سنا ہے کہ کچھ ٹیکنالوجیز ایسی ہیں جو ہمیں مقناطیسی میدانوں کو “محسوس” کرنے یا الٹرا وائلٹ شعاعوں کو “دیکھنے” کے قابل بنا سکتی ہیں، جیسے کچھ جانور کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک ہیڈسیٹ پہن کر کچھ دیکھنے یا سننے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ہمارے اپنے جسمانی تجربے کو ہی بدلنے کے مترادف ہے۔ جب ہم حسی توسیع کی بات کرتے ہیں، تو یہ صرف معلومات کو ظاہر کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ براہ راست ہمارے حواس کے سسٹم میں نئی معلومات شامل کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اگر ہم کبھی کسی اجنبی سیارے پر جائیں اور وہاں کی مخصوص بو کو محسوس کر سکیں، یا دور دراز کے علاقوں میں ہونے والے زلزلے کی ہلکی سی کپکپاہٹ کو اپنے جسم میں محسوس کر سکیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہمیں فطرت اور کائنات کو ایک بالکل نئے انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ ہماری زندگی میں ایک نیا باب کھولنے والی چیز ہے۔

س: حسی توسیع انٹرفیس مستقبل میں ہماری زندگی کے کن پہلوؤں کو متاثر کر سکتی ہے، اور ہمارے روزمرہ کے تجربات کو کس طرح بدل دے گی؟

ج: مجھے یقین ہے کہ حسی توسیع انٹرفیس ہماری زندگی کو ایسے طریقوں سے بدل دے گی جس کا ہم نے ابھی صرف تصور ہی کیا ہے۔ ذرا سوچیں، اگر آپ ایک ڈاکٹر ہیں اور کسی دوسرے شہر میں بیٹھے مریض کا معائنہ کر رہے ہیں تو آپ صرف اس کی رپورٹیں ہی نہیں دیکھیں گے بلکہ آپ اس کے جسم کے درجہ حرارت یا اندرونی اعضاء کی کیفیت کو “محسوس” بھی کر سکیں گے۔ یہ تو جادو سے کم نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہماری طبی دنیا میں انقلاب برپا کر دے گی۔اسی طرح، تعلیم کے میدان میں، بچے نہ صرف خلا کے بارے میں پڑھیں گے بلکہ وہ سیاروں کی کشش ثقل کو “محسوس” بھی کر سکیں گے، یا ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے ماحول کو اپنے آس پاس محسوس کر کے تاریخ کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔ اس سے پڑھائی اتنی دلچسپ ہو جائے گی کہ ہر بچہ شوق سے سیکھے گا۔ مواصلات کے میدان میں، ہم اپنے پیاروں کے جذبات کو صرف الفاظ یا چہرے کے تاثرات سے نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں ان کے “احساسات” کو بھی سمجھ سکیں گے۔ یہ ایک ایسی گہری سطح پر تعلق قائم کرنے میں مدد دے گا جس کا ہم نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا۔میں نے جب اس کے بارے میں سوچا تو مجھے لگا کہ یہ ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بہت بڑھا دے گی۔ فنکار نئے حواس کو استعمال کرتے ہوئے ایسے فن پارے تخلیق کر سکیں گے جو آج تک ممکن نہیں تھے۔ یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے پہلو کو بہتر بنا سکتی ہے۔ میرے خیال میں حسی توسیع صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ یہ انسانی تجربے کو ایک نئی جہت دینے والی ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ مجھے تو اس کا شدت سے انتظار ہے کہ یہ سب کچھ کب حقیقت بنتا ہے اور ہم اسے اپنی زندگیوں میں محسوس کرتے ہیں۔

Advertisement